نئی دہلی ، 2؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس عرضی پر سماعت کی گئی جس میں زرعی قوانین کے خلاف جنتر منتر پر دھرنا دینے کی اجازت طلب کی گئی تھی- عدالت عظمیٰ نے کسانوں کے سڑکوں پر احتجاج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن آپ دوسروں کی املاک کو تباہ نہیں کر سکتے- ایک طرف آپ نے پورے شہر کا گلا گھونٹ دیا ہے اور اب عدالت سے شہر کے اندر دھرنا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں - لوگوں کے بھی حقوق ہیں، کیا آپ نظام عدل کی مخالفت کر رہے ہیں؟ آپ شاہراہ کو جام کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ احتجاج پرامن ہے!
جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت طلب کرنے پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا شہر کے لوگ اپنا کاروبار بند کر دیں؟ کیا شہر میں دھرنے سے عوام خوش ہوں گے؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ سکیورٹی اہلکاروں کو بھی پریشان کر رہے ہیں - شہریوں کو بھی نقل و حرکت کا حق حاصل ہے - ایک بار جب آپ نے عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا تو احتجاج کی کیا ضرورت ہے؟
جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے درخواست گزار کی کاپی حکومت کو دینے کو کہا ہے- معاملہ کی اگلی سماعت4/اکتوبر کو ہوگی- سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر دھرنا دینے کا مطالبہ کرنے والی کسان مہاپنچایت سے اس سلسلہ میں حلف نامہ طلب کیا ہے کہ وہ اس احتجاج کا حصہ نہیں ہیں جس میں شاہراہیں بند کی جا رہی ہیں -
خیال رہے کہ کسانوں کے وکیل اجے چودھری نے عدالت عظمیٰ میں کہا کہ ہم نے شاہراہ بند نہیں کی، پولیس نے ہمیں وہاں حراست میں لیا ہے- عرضی میں کسان مہاپنچایت نے دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کیلئے دھرنا دینے کی اجازت طلب کی ہے- اس میں مرکز، ایل جی اور دہلی پولیس کو200کسانوں کے احتجاج کیلئے اجازت فراہم کرنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے-
درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وہ جنتر منتر پر پرامن، عدم تشدد ستیہ گرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس قسم کے ستیہ گرہ کے لئے چند ماہ قبل ”سینکت کسان مورچہ“کو اجازت دی گئی تھی، لیکن اب 'کسان مہا پنچایت' کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ایسا کرکے حکومت ان کے ساتھ امتیازی اور متعصبانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے جس کی وجہ سے ان کے جمہوری اور بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ کسانوں کی ایک بڑی تعداد26نومبر 2020سے دارالحکومت دہلی کے غازی پور، سنگھو، ٹکری وغیرہ سرحدوں پر مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ انہوں نے کئی بار بھارت بند کا اعلان بھی کیا ہے۔مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کو کسانوں کی تنظیموں اور کچھ دیگر نے چیلنج کیا ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے12جنوری2020کو مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے نفاذ پر روک لگا دی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے ان قوانین کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے کسانوں اور متعلقہ فریقوں کی بڑی تعداد سے مشاورت کے بعد 19مارچ کو اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی تھی-